ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صفائی کرمچاریوں کوغیرمعیاری کھانے کی فراہمی پر ہنگامہ بی بی ایم پی بجٹ میں مجموعی ترقی پر زور دیا گیاہے:رضوان نواب

صفائی کرمچاریوں کوغیرمعیاری کھانے کی فراہمی پر ہنگامہ بی بی ایم پی بجٹ میں مجموعی ترقی پر زور دیا گیاہے:رضوان نواب

Tue, 28 Mar 2017 11:08:15    S.O. News Service

بنگلورو:27؍مارچ (ایس او نیوز) صفائی کرمچاریوں کے لئے گرم کھانے کی اسکیم کے نام پر غیرمعیاری کھانے کی تقسیم کا معاملہ آج بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کونسل اجلاس کے دوران ہنگامہ کا باعث بنا اور اس مسئلہ کو لے کر ایوان میں گرما گرم بحث ہوئی۔ بی بی ایم پی بجٹ پر بحث کے لئے طلب کردہ کونسل اجلاس کے دوران دھرمارایا سوامی وارڈ کارپوریٹر پراتیبا دھنراج اور بی بی ایم پی میں اپوزیشن لیڈر پدمانابھاریڈی نے اسکان ادارے سے بی بی ایم پی صفائی کرمچاریوں کے لئے تقسیم کئے جارہے کھانے کا معیار بہت ناقص رہنے پر ہنگامہ کھڑا کرتے ہوئے کھانے کے پیکٹ کو پیش کرکے اپنی ناراضی جتائی۔ اس سلسلہ میں پدمانابھاریڈی نے کہاکہ شہر کو پاک وصاف رکھنے کے لئے دن رات صفائی کاکام کررہے صفائی کرمچاریوں کے لئے دوپہر کے گرم کھانے کی اسکیم کافی خوش آئند ہے۔ لیکن اس اسکیم کے نام پر جو غیرمعیاری کھانا تقسیم کیا جارہاہے اس سے صفائی کرمچاریوں کو تکلیف ہورہی ہے اور اس کا اثر ان کی صحت پر بھی پڑنے لگاہے۔ انہوں نے بتایاکہ بی بی ایم پی صدر دفتر سے قریب دھرمارایا سوامی وارڈ میں آج صبح صفائی کرمچاریوں کے لئے جو کھانا تقسیم کیاگیاہے وہ باسی تھا۔ اس کھانے کے کھانے سے صحت پر اس کا کس طرح اثر پڑے گا۔ اس پر گہرائی سے سوچنے کے لئے میئر جی۔ پدماوتی اور کمشنر منجوناتھ پرساد سے مطالبہ کیا اور پرزور مانگ کی کہ اس معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ اس دوران میئر جی پدماوتی نے کہاکہ صفائی کرمچاریوں کے لئے جو کھانا تقسیم کیا جارہاہے۔ اس کے خراب ہونے سے متعلق ابھی پتا چلا ہے۔ وہ بہت جلد افسران کا اجلاس طلب کرکے اس میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا کونسل کو یقین دلایا۔ قبل ازیں بجٹ پر بحث کے دوران بی بی ایم پی میں برسراقتدار پارٹی کے لیڈر محمد رضوان نواب نے کہاکہ ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے دلتوں، پچھڑے طبقات اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کی اسکیموں کے ساتھ شہر کی مجموعی ترقی پر زور دیتے ہوئے عوام پسند اور ترقی پسند بجٹ پیش کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اہندا طبقات کی ترقی کے لئے کئی اسکیمیں شروع کرنے کا اعلان کیاہے۔ اس کے علاوہ اسکول، کالجوں کے طلباء وطالبات کے لئے ہیلتھ انشورنس اسکیم جو شروع کی ہے وہ خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کی ترقی کے لئے جو فنڈ مختص کی ہے وہ بھی بہتر اقدام رہاہے۔ مسٹر رضوان نواب نے کہاکہ نئی پارکنگ پالیسی، پارکنگ کی سہولتوں کے لئے ہمہ منزلہ عمارتیں تعمیرکرنا، غیرقانونی اشتہارات پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کرنے کا جو فیصلہ کیاہے۔ وہ بھی بہتر اقدام ہے۔ اس کے علاوہ شہر کی مجموعی ترقی کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتیں فنڈ جاری کی ہیں۔ اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں پر زور دیا جاناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تالابوں کی ترقی، سڑکوں کی مرمت اور شہر کی خوبصورتی کے لئے جو منصوبے بنائے گئے ہیں۔ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شہر کو خوبصورت بنایا جائے گا۔ انہوں نے غریب افراد کی سہولت کے لئے جنرل دوائیوں کی دکانوں کے قیام پر زوردیا۔ اس کے علاوہ امراض قلب کے مریضوں کے لئے درکار اسٹنٹ نصب کرنے کے لئے میڈیکل ایڈ کو راست اسپتالوں کو پہنچانے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ شہر کے 20؍علاقوں میں ڈیالیسس سنٹر قائم کرنے کا جواعلان کیاگیاہے۔ یہاں معیاری اور جدید مشنریز نصب کرنے کی گزارش کی۔ سابق ڈپٹی میئر ایس ہریش نے بجٹ کو سیاسی بجٹ قراردیا اور صرف کانگریس اراکین اسمبلی اور کارپوریٹرس کے علاقوں پر زیادہ توجہ دیئے جانے کا الزام لگایا۔ اپوزیشن لیڈر پدمانابھاریڈی نے بی بی ایم پی بجٹ کو عوام مخالف بجٹ قرار دیتے ہوئے جھوٹ کا جمبو بجٹ کہا۔ انہوں نے کہاکہ شہریوں نے جو توقع کی تھی اس پر گناشیکھر نے پانی پھیر دیاہے۔ انہوں نے بتایاکہ جاریہ سال کا بجٹ 14؍ہزار کروڑ روپئے کا ہونا چاہئے تھا۔ کیوں کہ بقیہ تعمیری کاموں کے لئے 10؍ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ لیکن بجٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیاہے۔


Share: